چارہ[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - چارا مع تحتی۔      "پریم شنکر جھونپڑے کے سامنے کھڑے ہوئے بیلوں کو چارہ دے رہے تھے"     رجوع کریں:   ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٢٥:١ )

اشتقاق

سنسکرت میں لفظ "چَرِت ویَ + کَن" سے ماخوذ اردو میں چارہ بنا۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ پراکرت میں لفظ "چرے اووان" سے بھی ماخوذ ہے اور اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٥٨٢ء میں "کلمۃ الحقائق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - چارا مع تحتی۔      "پریم شنکر جھونپڑے کے سامنے کھڑے ہوئے بیلوں کو چارہ دے رہے تھے"     رجوع کریں:   ( ١٩٢٢ء، گوشۂ عافیت، ٢٥:١ )

اصل لفظ: چَرِتویَ+کَن
جنس: مذکر